Thursday, 2 February 2012

اقبالیات: 'خضرِ راہ' : فنی فکری تجزیہ





اقبالیات


'خضرِ راہ'


فنی فکری تجزیہ



خضر راہ“نظم اقبال نے حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی تھی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحرتک ہجرت جاری ہوئی۔  ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔ ابتداءمیں نظم میں صرف دو عنوان تھے۔ پہلے دو بندوں کا عنوان تھا ”شاعر“ یعنی شاعر کا خضر سے خطاب باقی نو بندوں کا عنوان تھا ”جواب خضر “ ۔نظر ثانی میں اقبال نے مختلف مسائل پر الگ الگ عنوان قائم کر دئیے۔

فکری جائزہ:۔

اقبال کی یہ نظم اپنے دور میں بہت زیادہ مقبول ہوئی۔ اس کے بارے میں پروفیسر اسلوب احمد انصار ی لکھتے ہیں۔۔

اس نظم کی ہر دلعزیزی کا بڑا سبب اس کے موضوع یا موضوعات کا ہنگامی اہمیت کا حامل ہوناتھا۔

اس نظم کو فکری لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک حصہ ”شاعر“ کے عنوان سے پس منظر، خضر کی آمداور شاعر کے سوالات پر مبنی ہے جب کہ دوسرا حصہ خضر کے جواب پر مشتمل ہے۔ نظم کی ابتداءیوں ہوتی ہے کہ شاعر انتہائی پریشانی اور ذہنی کشمکش کی حالت میں سکون کی تلاش میں ساحل دریا کی جانب رخ کرتا ہے۔ شاعر کو ایک نئی صبح کی تلاش ہے۔ جہاں زندگی با معنی ہو۔ جہاں اس کاوطن عزیز فرنگی جال سے آزاد ہو۔ جہاں عالم اسلام یورپی رخنہ گردوں کے فتنہ و فساد سے محفوظ ہو۔

یہاں پہنچ کر اقبال دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے۔ ایک شاعر اقبال اور دوسرا مفکر اقبال، شاعر اقبال سوال کرتا ہے اور مفکر اقبال جواب دیتاہے۔ پہلے بند میں منظر کشی کا بہترین نمونہ ملتاہے۔ جو کہ ایک خاص کردار خضر کے ظہور کے لئے ہے۔ یہاں ایک سکوت کی فضاءملتی ہے۔ وہ دراصل اس انسانی ماحول کے جمود کی طرف اشارہ کرتاہے۔ جس کو توڑنے کے لئے ہی شاعر کا دل ایک جہان ِ اضطراب بناہواہے۔۔

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب!

منظر فطرت کا یہ طلسم پانچویں ہی شعر میں ٹوٹ جاتا ہے اور نہایت ڈرامائی طور پر خواجہ خضر کی شخصیت منظر پر اُبھرتی اور جزو ِ منظر بن جاتی ہے۔ خضر شاعر کو بتاتا ہے کہ اگر چشم و دل وا ہو یعنی انسان کی روح اپنی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ بیدار ہو جائے، دل کی آنکھ کھل جائے تو دل کے اندر وہ روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو مظاہر حیات اور واقعات عالم کے پیچھے مضمر حقائق کے مشاہدے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرار ازل
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب!

دوسرے بند کے پہلے دو شعروں میں قبال ”خضر “ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کائنات کے تما م سربستہ راز آپ پر منکشف ہیں اور آپ کو مستقبل کے وہ حالات بھی معلوم ہیں جو مستقبل میں ظہور پزیر ہوں گے۔ اقبال خضر کو موسیٰ کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں کہ موسی کا علم بھی آپ کے سامنے ہیچ ہے۔ اسی لئے وہ اُن کے سامنے چند سوالات رکھتے ہیں اور سوال اُسی سے پوچھے جاتے ہیں جو صاحب ِ علم و صاحب اسرار ہو۔ سوالات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔۔

پہلا سوال:۔      خضر کو صحرا نوردی اس قدر عزیز کیوں ہے؟
دوسرا سوال:۔   زندگی کا راز کیا ہے؟
تیسرا سوال:۔    سلطنت کیا چیز ہے؟
چوتھا سوال:۔    سرمایہ اور محنت میں جھگڑے کی وجہ کیا ہے؟
پانچواں سوال:۔ دنیائے اسلام کی زبوں حالی کی وجہ کیا ہے؟

اقبال کا انداز نظر بالکل انسانی او ر آفاقی تھا۔ وہ سماجی انصاف کی علم برداری کرنا اپنا فرض تصور کرتے تھے۔اسی طرح کمزوروں ، مظلوموں اور محروموں کی حمایت اپنا فرض جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ملت دوستی کو ”ایشیاءکا خرقہ دیرینہ‘ ‘سے وابستہ کر دیا ہے یعنی وہ اپنے ملی موقف میں ایک آفاقی نقطہ نظر سے پورے مشرق کو اس لئے شامل کرتے ہیں کہ اس کے خرقہ دیرینہ کو بہت ہی جابرانہ اور ظالمانہ انداز میں چاک کرکے اس کی قیمت پر مغربی اقوام نو دولت ”نوجواں“ پیرا پو ش ہو رہے ہیں۔

یہاں اقبال کی نظر انتہائی وسیع ہو جاتی ہے ۔ وہ دنیائے اسلام کو عالم مشرق کا مترادف قرار دیتے ہیں کہ ملت اسلامیہ مشرق کی نمائندگی کرتی ہوئی ایک خطرناک امتحان میں پڑ گئی ہے۔ بادشاہت و ملوکیت سے اقبال کو نفرت ہے ۔ اقبال کے خیال میں اگرچہ سکندر مر گیا ہے۔ اُس کو دوام نہیں ملا مگر فطرت اسکندری ابھی قائم ہے ۔ حکمرا ن طبقہ ابھی تک دادِ عیش دے رہا ہے۔

گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم نائو  نوش

دوسری طرف مسلمان ، مسلمان کا دشمن ہو گیا ہے اور ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو“ ، کے سنہرے اصول کو چھوڑ کر ذاتی غرض کی خاطر ایک دوسرے کا خون بہا رہا ہے۔ یہاں اقبا ل نے شریف مکہ کے حوالے سے عربوں کی ترکی سے غداری کو حضور کے دین کو بیچنے کے مترادف قرار دیا ہے،

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

اور ایک طرف طاغوتی قوتیں ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ یہ قوتیں مسلمانوں کی قوت برداشت کا امتحان لے رہی ہیں۔

آگ ہے ، اولاد ابراہیم ہے ، نمرود ہے
کیا کسی کو کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

تیسرے بند میں خضر پہلے سوال کا جواب دیتے ہیں ۔ اقبال فطرتاً صحرائیت پسند او ر بدویت پسند ہے۔ اقبال کے نزدیک جو افراد او ر قومیں مسلسل جدوجہد کرتی ہیں وہ دوام پاتی ہیں ۔ جہاں و ہ تھک کر بیٹھ جاتی ہیں موت اُن کو دبوچ لیتی ہے۔اور صحرا نوردی مسلسل حرکت کا استعارہ ہے۔ جو اس حقیقت کو روشن کرتی ہے کہ قدرت کے کارخانے میں سکون محال ہے۔ دنیا میں ہر لمحہ حرکت و تغیر کا تماشا جارہی ہے اور اس تماشے کے کسی منظر کو قیام نہیں ہے ۔ خضر اپنی مسلسل دوڑ دھوپ اور حرکت و عمل کو اصل زندگی بتاتا ہے۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ صحرا سے اقبال کو اتنی انسیت کیوں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کا روحانی مرکز اور اصل مولد و منشا صحرائے عرب ہے۔ اسی بدولت سادہ زندگی کی وجہ سے مسلمان تما م دنیا پر چھا گئے ۔ اُن میں فاتحانہ اخلاق پیداہوئے۔ صحرائیت میں تکلف و تصنع کا کوئی گزر نہیں۔ صحرا نشین آدمی میں بلا کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ ایک متمدن انسان جوش اور ولولے سے عاری ہوتا ہے ۔ صحرا نشین کی ضروریات زندگی بھی حد درجہ محدود ہوتی ہیں۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد  کہستانی

اگلے دو بندوں میں زندگی کے متعلق بحث کی گئی ہے۔ بقول اسلوب احمد انصاری۔۔

زندگی اقبال کے نزدیک مترادف ہے ایک ایسے مظہر کے جس کی وسعتوں اور گہرائیوں کو ادراک کی گرفت میں آسانی سے نہیں لایا جا سکتا۔

اقبال انسان کو بتاتا ہے کہ زندگی سود و زیاں ، نفع و نقصان کی سوچ سے بلند تر چیز ہے۔ اس میں کبھی تواعلیٰ مقصد کے لئے جان قربان کردی جاتی ہے، جس طرح حضرت امام حسین نے کربلا میں اور حضرت اسماعیل نے خدا کے حکم پر اپنی جان ِ عزیز کو قربانی کے لئے پیش کیا اور کبھی اعلیٰ مقاصد کی خاطر ہجرت کرکے جان بچائی جاتی ہے۔

برتر از اندیشہء سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی!

انسان کو چاہیے کہ وہ آج اور کل ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں کے حسا ب سے زندگی کو نہ ناپے۔ کیونکہ جاوداں ، پیہم دواں ، ہر دم جواں ہے زندگی۔ انسان ایک ارتقاءپذیر اکائی ہے ۔ اس میں تجدید خودی کی قوت پوشیدہ ہے۔ اسی لئے اس کا نقش مٹ مٹ کر اُبھرتا رہتا ہے۔ زندگی ہر لحظہ نئی قبا زیب تن کر لیتی ہے اور اسی تحریک میں سر آدم پنہاں ہے۔ سرِ آدم قوت تسخیر اور تعمیر کائنات ہے۔ انسان کوچاہیے کہ اپنی خدادا د صلاحیتوں سے بھر پور کام لے۔ کیونکہ اسی لئے تو انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ گو انسان کی تخلیق ایک مشتِ خاک کی سی ہے۔ لیکن قوت کے بدولت انسان اشرف المخلوقات ہے۔

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ،  ضمیر کن فکاں ہے زندگی!

زندگی اور آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ انسان میں بے شک قوت کے خزانے موجود ہیں ۔ مگر اس کے اظہار کے لئے آزادی اولین شرط ہے۔ کیونکہ غلامی انسان کی قوت عمل کو شل کر دیتی ہے اور نمو کے سارے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں ۔ غلامی کے دور میں زندگی گھٹتے گھٹتے ایک ایسی ندی بن جاتی ہے۔ جس میں پانی کم ہوتا ہے اور معمولی بند باندھنے سے رک جاتی ہے۔ لیکن آزادی کے زمانے میں زندگی ایک ایسے سمندر کا روپ دھار لیتی ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِ ک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی !

آگے چل کر اقبال انسان کے ذوق ِ عمل اور جدوجہد کو ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کے خیال میں انسان کو سچائی اور صداقت کا دلدادہ ہونا چاہیے ۔ لیکن اس کے لئے پہلے اپنے جسم میں جان پیدا کرنا ضروری ہے۔ یعنی اپنے دل میں ولولہ اور عزم و جوش پیدا کرنا چاہیے۔ جو مرتبے اور عہدے ، مال و دولت انسان کو وراثت میں ملے ہیں ، ان پر انحصار کرنا چھوڑ دے۔ اپنی ہمت ، اپنی محنت اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے دولت کمائے اور جاہ و مرتبہ حاصل کرے۔ اسی سے اُن کے دلوں میں وہ حوصلہ اور جرات پیدا ہوگی جو خالد بن ولید ، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے جری اور دلیر لوگوں میں تھی۔

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

چھٹا بند سلطنت سے متعلق ہے اقبال فرماتاہے ؛۔۔

آئو بتائوں تجھ کو رمز آبہ ان لملوک
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری

سلطنت و حکومت کو طاقت کی جادوگری کہنا ایک نہایت بلیغ بات ہے ۔ جادوگری کا لفظ ایک طرف طاقتورحکمرانوں کی ننگی جارحیت اور طاقت کے استعمال پر محیط تو دوسری طرف مدبرانہ مصلحتوں اور رعایا پروری کے ظاہر ی سلوک کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی محکوم نیند سے بیدار ہوتا ہے اور ملوکیت و شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو حکمران اُسے انوکھے ہتھکنڈوں سے پھر سلا دیتا ہے۔ اُسے ایسے سہانے سپنے دکھاتا ہے کہ وہ پھر سے غلامی کا طوق گلے میں پہن لیتا ہے۔

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کوحکمراں کی ساحری

پھر اقبال مسلمانوں کو آزادی کی نعمت حاصل کرنے کے لئے زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے مسلمان تو آزاد پیدا ہوا ہے۔ تیری مثال تو شاہین جیسی ہے تو اپنی آزاد فطرت کو غلامی کی دلدل میں پھنسا کر بدنام نہ کر ۔ اگر ایسا کرے گا تو برہمن سے بھی بڑا کافر ہوگا۔

اقبال کہتا ہے کہ جمہوریت ظالم وجود کا جن ہے جو خوبصورت لباس پہن کر ناچ رہا ہے۔ لوگ اس کے زرق برق لباس کو دیکھ کر اس کو آزادی کی نیلم پری سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ وہی مطلق العنان ملوکیت ہے۔ اقبال مسلمانوں کو خطاب کرکے کہتا ہے کہ اے ناداں انسان تو اس رنگ و بوکے دھوکے کو باغ سمجھ رہا ہے۔ اور اپنی نادانی سے اس پنجرے کو گھونسلہ سمجھ رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ تجھ کو تادیر غلام رکھنے کے ہتھکنڈے ہیں۔۔

اس سراب رنگ و بوکو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ ! اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

ساتواں اور آٹھواں بند سرمایہ داری سے متعلق ہے ۔ اقبال خضر کی زبانی مزدور کو پیغام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کائنات کے دل سے اٹھنے والی آواز ہے ۔ یہ میرا ذاتی پیغام نہیں بلکہ قدرت اور فطرت کا ازلی پیغام ہے۔ میری آواز میں زمانے کی آواز شامل ہے۔۔

بندہ مزدور کو جاکر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ، ہے یہ پیام کائنات

ان سرمایہ داروں نے تجھ کو غلام رکھنے کے لئے مختلف حربے ایجاد کئے ہیں ۔ تجھے کبھی ذات پات کے چکروں میں الجھایا گیا، کبھی قومیت کا سوال کھڑا کیا ہے۔ کبھی کلیسا کا چکر چلایا ہے ۔ کبھی تہذیب کا جال بچھا کر عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ کبھی کالے گورے کی تمیز رکھی گئی۔ اور اے مزدور تو ان حیلہ بازیوں سے بے خبر رہا اور یہ تجھے طرح طرح کے خواب دکھا کر فریبوں میں الجھا کر تیرا خون چوستے رہے اور افسوس تو انہی کے لئے لڑتا رہا اور ان کے لئے محنت کر تا رہا۔ یہاں اقبال مزدورں کو بیدار کرتا ہے۔

اُٹھ کہ اَب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

آخری تین بند دنیائے اسلام سے متعلق ہیں ، یہاں اقبال نے اپنے جذبات کی تسکین کے لئے راہ نکالی ہے جو اُن کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں نہ جانے کتنی مدت سے پوشیدہ تھے۔

مسلمانوں کے تمام اشعار او ر میراث کو عیسائی دنیا نے اپنا لیا۔ مثلاً روایت پرستی کی جگہ تخلیقی انداز کو عیسائی دنیا نے اپنایا۔ اندھی تقلید کی جگہ اجتہاد سے کام لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سرفراز اور کامران ہوگئے اور مسلمان پستی کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب گئے ۔ عربوں نے غداری کرکے اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔ جب تک ایک تھے مضبوط تھے ۔جدا ہوئے تو دشمن نے ان کو ایک ایک کرکے ہڑپ کر لیا۔

اور وہ ترک جو کبھی جاہ و حشمت کے مالک تھے ، جو بادشاہ تھے آج وہ پوری دنیا میں رسوا ہوگئے ہیں ۔ خلافت کا تاج ان کے سر سے اتر چکا ہے۔ جس میں کچھ مغرب کی عیاری اور سیاسی چالبازی کا کمال ہے تو بہت زیادہ مسلمانوں کا ترکِ مذہب اور اسلامی شعار سے دور ی کا نتیجہ ہے۔ ایران بھی یورپ کی طرف دیکھ رہا ہے اورمغربی تہذیب بالکل کھوکھلی ہے۔ جو آئندہ نسلوں کے لئے تباہی کا پیغام لائے گی۔ اس لئے اقبال ایرانیوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ان اثرات سے پرہیز کریں۔ اس کے بعد اقبال خودی کا درس دیتے ہیں کہ اپنی حاجتوں کو دوسروں کے سامنے نہ لے جا۔ اپنی خودی کو قربان نہ کر اور دوسروں کے آگے ہاتھ مت پھیلا ۔اگر تو دوسروں کی محتاجی کرے گا تو اس سے تیری خودی کو ٹھیس لگے گی۔ خودی جو آئینے کی مانند نازک ہے ایسی ٹھیس سے چکنا چور ہو جاتی ہے۔

اقبال مشرق کے مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے مصائب و آلام کا حل ملت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے ۔ اگر مسلمان چاہتا ہے کہ ذلت کے گھور اندھیروں سے نکل آئے تو انہیں آپس میں باہمی ربط و ضبط پیدا کرنا ہوگا۔ مگر افسوس ایشیا والے اس نکتے سے اب تک بے خبر ہیں ۔ لہٰذا جب بھی اُن پر یہ راز منکشف ہوگا تو وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لےکر تابہ خاک کاشغر

اس کے بعد اقبال اپنے کلام میں کہتا ہے کہ میری باتوں کو غور سے سن۔ تجھے اس میں آنے والے وقت کی دھندلی سی تصویر نظر آئے گی ۔ یعنی میری باتوں میں تجھے مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والی بہت سی باتوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ آسمان کے پاس ایک سے ایک آزمایا ہوا فتنہ موجود ہے۔ اس لئے ان سے ہوشیار رہ۔

فنی جائزہ:۔

خضرراہ“ فنی لحاظ سے ایک مکمل نظم ہے ۔ اس بارے میں آل احمد سرور لکھتے ہیں،

خضرراہ“ میں اقبال کا فن پہلی دفعہ اپنی بلندی پر نظر آتا ہے۔ یہ وہ بلندی ہے جس میں مستی اندیشہ ہائے افلاکی کے ساتھ زمین کے ہنگاموں کو سہل کرنے کا حیرت انگیز عزم موجود ہے۔

خضرراہ“ کل گیارہ بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ نظم ترکیب و ہیئت میں ہے۔ اس میں 85 اشعار ہیں اس نظم میں کم و بیش 1400 الفاظ ہیں ۔ یہ بحر رمل مثمن مقصور میں ہے۔ اس کے ارکان یہ ہیں۔         فاعلاتن فاعلاتن   فاعلاتن فاعلن

نظم کے کردار:۔

اس نظم میں دو کردار سامنے آتے ہیں ایک خود شاعر اور دوسرا خضر ، شاعر ایک بے قرار شخص ہے اُس نے اپنے آپ کو ”جویائے اسرارِ ازل“ کہا ہے۔ جو ایک ایسے انسان کو ظاہر کرتا ہے جس کے دل میں سب کچھ جاننے کی خواہش موجزن ہے۔ دوسرا کردار خضر کا ہے۔ خضر کی شخصیت کو اقبال نے اس شعر میں مکمل کر دیا ہے۔

دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک ِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند  سحر رنگ شباب

پہلے مصرعے میں اُن کو ”پیکِ جہاں پیما“ کہا گیا اس لئے کہ وہ جہاں گرد مشہور ہیں دوسرے مصرعے میں ” پیری میں مانند سحر رنگ ِ شباب“ کا بیان ملتا ہے۔ اس لئے ان کی طویل عمر کی روایت خاصی مشہور ہے اور جس طرح صبح ، صدیوں سے ایک ہی طرح ہر روز طلوع ہونے کے باوجود تازگی و شادابی کا مظہر ہے۔ جیسے شباب کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح خضر  بھی صدیوں پر محیط طویل عمر کے باوجود جوانوں کی طرح مستعدی سے جہاں گردی کرتے رہتے ہیں،بقول فتح محمد ملک۔۔

اقبال نے خضر کا کردار مشرقی روایات اور داستان کے بجائے براہ راست قرآن سے اخذ کیا۔

ڈرامائی کیفیت:۔

اس نظم میں ڈرامائی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ ڈرامائیت خضر کے کردار کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔ اس نظم کے پہلے منظر کو اگر دیکھیں تو لگتا ہے کہ ڈرامے کا پہلا سین شروع ہو گیا ہے۔ یہ سین ساحل دریا کا ہے۔ شاعر مضطرب دل کے ساتھ محو نظارہ ہے ۔ اس کے دل میں ایک طوفان مچا ہوا ہے۔ مگر بیرونی ماحول انتہائی پر سکون ہے۔ رات کا سکون پر پھیلائے ہوئے ہے۔ قاری تجسّس کا شکار ہو کر پورے انہماک سے مطالعہ شروع کرتا ہے۔ پر سکون ماحول کے پیچھے ایک طوفان چھپا ہوا ہے۔ اس لئے قاری بھی کسی طوفان کا منتظر ہے۔ اسی اثنا ءمیں اچانک خضر سٹیج پر آکر مکالمہ شروع کرتا ہے۔

کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرارِ ازل
چشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیر  عالم بے حجاب

پھر مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح کائنات اور بین الاقوامی سیاسیات سے متعلق شاعر کو مکمل اور کافی و شافی جوا ب مل جاتا ہے۔

نظم کا لہجہ:۔

پروفیسر رفیع الدین ہاشمی کے بقول۔۔

بحیثیت مجموعی نظم کا لہجہ نرم و ملائم اور دھیما ہے۔

پہلے بند میں لہجہ انتہائی دھیما اور محتاط ہے۔ اسی طرح پوری نظم میں مجموعی طور پر دھیما پن اور نرمی غالب ہے۔ کہیں کہیں لہجہ پر جوش ہو جاتا ہے۔ مگر اقبال اسے دوبارہ مدہم کر دیتا ہے۔ مثلاً دوسرے بند میں شاعر انتہائی جوش سے کہتا ہے۔         

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین ِ مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

یہاں جوش اور گرمی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ ”صحرا نوردی میں “ لہجہ دھیما ہے۔ ”زندگی“ میں پھر بلند اور قدرے پر جوش ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی شاعر کے نزدیک ”گردش پیہم“ اور پیہم دواں ہر دم جواں“ ہے۔ جس میں انسان کو مختلف آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ مگر اگلے ہی بند میں ۔۔۔

سوئے گردوں نالہ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے راز داں پیدا کرے

کہہ کر پر جوش ”Tone“ کو مدہم کر دیا ہے۔ یہ اتار چڑھائو اور مدوجزر پوری نظم کا خلاصہ ہے۔ مگر مجموعی تاثر دھیما ہے۔ اختتام ناصحانہ ہے اور نصیحت نرم لہجے میں ہوتی ہے۔

رنگ تغزل

تغزل اقبال کے کلام کا خاصا ہے۔”خضر راہ“ اگرچہ ایک نظم ہے جس میں حیات و کائنات کے حقائق اور ٹھوس مسائل کو موضوع سخن بنا یا گیا ہے۔ مگر چونکہ اقبال کے مزاج میں شعریت اور تغزل رچا بسا ہے اس لئے غزلوں کے علاوہ ان کے بیشتر نظموں میں تغزل کا رنگ نمایاں ہے۔ خضر راہ کے بعض حصوں اور شعروں میں ہمیں اقبال کا یہی رنگ تغزل نظر آتا ہے۔

برتر اندیشہ سود وزیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم ِ جاں ہے زندگی

جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ِ ایاز
دیکھتی ہے حلقہ گردن میں ساز دلبری

تراکیب، تشبہات:۔

اقبال نے خضر راہ میں بھی نادر تراکیب کااستعمال کیا ہے۔ مثلاًقلزم ہستی، شہید جستجو، ضمیر کن فکاں ، شمشیر بے زنہار، ساز دلبری ، شاخ آہو وغیرہ۔

تشبیہ کسی چیز کو کسی خاص وصف کی بناءپر کسی دوسری چیز کی مانند ظاہر کیا جائے اقبال کے ہاں نادر تشبیہات ملتی ہیں۔ بقول عابد علی عابد۔۔۔

اقبال ایسی ایسی خوبصورت تشبیہہں اور استعارے استعمال کرتے ہیں کہ ان دیکھی چیزیں دیکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مستِ خواب

صنائع بدائع کا استعمال:۔

اقبال کے کلام میں صنائع بدائع کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ جو اقبال کی غیر شعوری فنی مہارت کا شاہکار ہے۔

صنعت تلمیح:۔

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین مصطفی
خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

صنعتِ تجنیس:۔

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

صنعت ملمع:۔     

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق ترا چشمے عطا کر دستِ غافل درنگر

صنعتِ مراعات النظیر:۔

آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

صنعت تضاد:۔

دیکھتا ہوں کہ وہ پیک  جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند  سحر رنگ شباب

محاکات:۔

اس نظم میں محاکات یعنی تصویر کشی کا بہترین نمونے ملتے ہیں۔ بقول غلام رسول مہر ۔۔

خضر راہ کا موضوع منظر کشی نہ تھا۔ تاہم جہاں کہیں اتفاقیہ موقع مل گیا ہے وہاں اس کمال کرشمہ فرمائیاں بھی دیدنی ہیں۔

مثلاً پہلا بند جس میں اقبال لفظی تصویر کشی کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہیں۔۔

شب سکوت افزا، ہوا آسودہ ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب!

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل ِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب

مجموعی جائزہ:۔

نظم کی عظمت کے بارے میں عبادت بریلوی کی رائے ہی کافی ہے۔۔

” خضر راہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں موضوع کی بصیرت ، فنی سلیقہ شعاری سے گلے ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور اسی صورت حال نے اس کو اس سحر سے آشنا کر دیا ہے جو شاعری کی جان اور شعر کا ایمان ہے۔“









اقبال کا تصور شاہین






اقبالیات


اقبال کا تصور شاہین




خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں
جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں

نگاہ عشق، دل زندہ کی تلاش میں ہے
شکار مردہ   سزاوار   شاہباز   نہیں. ۔


اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے علامتوں کا لباس اختیار کیا ہے ان میں شاہین کا تصور ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ بیسویں صدی کا آغاز تھا کہ اقبال کی پہلی نظم” ہمالہ“ منظر عا م پر آئی ۔ اس کے بعد پانچ چھ بر س تک متواتر ان کی ایسی نظمیں ملک کے سامنے آتی رہیں ، جو ان کی حب وطن، ذوق حسن اور ہم آہنگی فطرت کی آئینہ دار تھیں۔ اس اثنا میں انہیں یورپ کا سفرپیش آیا اور وہ ایک عرصے تک کیمبرج اور اس کے بعد ہائڈل برگ ( جرمنی) میں مقیم رہے۔ جرمنی میں قیام کے دوران میں انہوں نے جن فکری اثرات کو قبول کیا ، ان میں نطشے کا فلسفہ موت و زندگی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ نظریاتی حلقوں سے باہر کی فضاءبھی ایک ہنگامہ عمل سے معمور تھی اور جرمنی قیصر ولیم کی قیادت میں تسخیر عالم کی تیاریوں میں مصرو ف تھا۔ جرمن قوم کی فعالیت اور بلند نظری اور جرمن فرد کی خود شناسی اور خود اعتمادی نے اقبال کے نظام فکر پر ایک گہرا اثرا ڈالا ہے اور اس اثر کی ایک یادگار اُن کی فضائے سخن میں اس پرند کی آواز ہے جسے شاہین کہتے ہیں اور جو قیصر کے جنگی خود اور اس کی کوہ شکن سپاہ کے پھریروں اور اس کے جہازوں کے مستولوں پر دنیا کے گوشے گوشے میں متواتر پانچ بر س تک مائل رہا ۔ اقبال کے شعر میں شہباز کی پہلی نمود ہمیں اس کے دور اوّل کی ایک نظم ” مرغ ہوا“ میں ملتی ہے جو پہلی جنگ عظیم کے قریب لکھی گئی۔۔۔


اک مرغ سِرا نے یہ کہا مرغ ہوا سے
پردار اگر تو ہے تو کیا میں نہیں پردار

گر تو ہے ہوا گیر تو ہوں میں بھی ہوا گیر
آزاداگر تو ہے ، نہیں میں بھی گرفتار

اس میں کوئی کلام نہیں کہ یورپ کی سب سے باعمل قوم کا تصور  شاہین قوت ، تیزی ، وسعت نظر دور بینی اور بلند پروازی کی خصوصیات پر محیط تھا اور اس کے مادی نظریہ حیات کا صحیح ترجمان ۔ لیکن جب اقبال نے اُسے اپنایا تو اس کی مشرقی روحانیت اس کی تخلیق پر غالب آگئی اور اس نے اپنے شاہین کو خصوصیات ِ مذکورہ کے علاوہ درویشی ، قلندری اورخوداری و بے نیازی کی اعلیٰ صفات سے بھی مزین کیا اور اپنی قوم کے نوجوان کے سامنے اسے زندگی کا بہترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ شاہین ِ اقبال کی سیرت کی ایک جھلک ”بال جبریل“ کی مشہور نظم ” شاہین “ میں جو اقبال کے دور خرد پروری کی یادگار ہے ، یوں نظر آتی ہے۔


کیا میں نے اس خاکداں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ

بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ


اقبال اور شاہین:۔


اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین کو ایک خاص علامت کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اور ان کا محبوب پرندہ ہے۔ اقبال کے ہاں اس کی وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے لئے بلبل اور شیلے کے لئے سکائی لارک کی تھی، بلکہ ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سے زیادہ بلند ہے کیونکہ شاہین میں بعض ایسی صفات جمع ہوگئی ہیں، جو اقبال کی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں۔ یوں تو اقبال کے کلام میں جگنو ، پروانہ ، طاوس ، بلبل ، کبوتر ، ہرن وغیر ہ کا ذکرآیا ہے۔ لیکن ان سب پر شاہین کو وہ ترجیح دیتے ہیں۔ اقبال نے تشبیہات و استعارات میں بلبل و قمری کے بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دی ہے۔ڈاکٹر یوسف خان لکھتے ہیں ۔۔۔

اقبال کے وجدان اور جذبات شعری کو جو چیز سب سے زیادہ متحرک کرتی ہے، وہ مظہر ”قوت“ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بلبل اور قمری کی تشبیہوں کی بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دیتا ہے۔

اقبال کے ہاں شاہین مسلمان نوجوان کی علامت کے طور پر استعمال ہو اہے۔اقبال کو جمال سے زیادہ جلال پسند ہے۔ اقبال کو ایسے پرندوں سے کوئی دلچسپی نہیں جن کی اہمیت صرف جمالیاتی ہے یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہیں۔۔۔


کر بلبل و طاوس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز ہے، طاوس فقط رنگ


اقبال کو شاہین کی علامت کیوں پسند ہے اس سلسلے میں خود ہی ظفر احمد صدیقی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔۔۔

شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے۔ اس جانور میں اسلامی فقر کی تمام خوصیات پائی جاتی ہیں۔ خود دار اور غیرت مند ہے کہ اور کے ہاتھ کا مارا ہو شکار نہیں کھاتا ۔ بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا ۔ بلند پرواز ہے۔ خلوت نشین ہے۔ تیز نگاہ ہے۔"

اقبال کے نذدیک یہی صفات مردِ مومن کی بھی ہیں۔ وہ نوجوانوں میں بھی یہی صفات دیکھنا چاہتا ہے ۔ شاہین کے علاوہ کوئی اور پرندہ ایسا نہیں جو نوجوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ بن سکے۔ اُردو کے کسی شاعر نے شاہین کو اس پہلو سے نہیں دیکھا۔ ” بال جبریل“ کی نظم ”شاہین“میں اقبال نے شاہین کو یوں پیش کیا ہے۔۔۔


خیابانیوں سے ، ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ

حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ

جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

یہ پورب ، یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا
میرا نیلگوں آسماں بے کرانہ

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیا نہ؟


اقبال کی شاہین کے صفات:۔
    

اقبال نے شاہین کی جن خوبیوں کا خود ذکر کیا ہے اور جن کے باعث وہ ان کا پسندیدہ جانور بنا ہے ان کا کلام ِ اقبال کی روشنی میں ذرا تفصیلی جائزہ لے لیا جائے تو اقبال کے تصورِ شاہین کو سمجھنے میں مزید مدد مل جاتی ہے۔ وہ صفات مندرجہ ذیل ہیں۔۔۔


غیرت و خود داری:۔


غیرت و خوداری درویش کی سب سے بڑی صفت ہے اور یہی حال شاہین کا بھی ہے۔ اس لئے وہ مرغ سرا کے ساتھ دانہ نہیں چگتا، جو دوسروں کے احسان کے باعث ملتا ہے اور نہ گرگس کی طرح مردہ شکار کھاتا ہے۔ درویش اور فلسفی میں یہی فرق ہے کہ گدھ اونچا تو اُڑ سکتا ہے لیکن شکار ِزندہ یعنی حقیقت اس کے نصیب میں نہیں ہوتی۔


بلند بال تھا لیکن نہ جسور و غیور
حکیم ِ سر ِمحبت سے بے نصیب رہا



پھرا فضائوں میں گرگس اگر چہ شاہیں وار
شکار زندہ کی لذت سے بے نصیب رہا


فقراور استغنا:۔


فقر بھی اقبال کے نزدیک مرد درویش کی بڑی خصوصیت ہے۔ جس طرح شاہین چکور کی غلامی نہیں کر سکتا اُسی طرح درویش شاہوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اقبال کہتے ہیں کہ شاہین کو چکور و گرگس کی صحبت سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ زاغ و گرگس کی صحبت میں شاہین کی زندہ شکار حاصل کرنے کی صلاحیت مردہ ہو جائے گی اور وہ انہی کی طرح لالچی بن کر فقر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اس طرح شاہین کی صفات پیداکرکے فقیر بھی کسی چڑیا ، کبوتر یا فاختہ کا شکار نہیں کرے گا بلکہ وہ فطرت و کائنات کی تسخیرکرے گا یا باطل کی قوتوں کا مقابلہ کرے گا۔۔۔

اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شان ِ بے نیازی

کنجشک و حمام کے لئے موت
ہے اس کا مقام شہبازی


آشیانہ نہ بنانا :۔


اقبال کو شاہین کی یہ ادا بھی پسند ہے کہ وہ آشیانہ نہیں بناتا ۔ آشیانہ بنانا اس کے فقر کی تذلیل ہے۔۔۔


گذر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ بیاباں میں
کہ شاہیں کے لئے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی


شاہین کی طرح درویش بھی سرمایہ جمع کرنے کو درویشی کے خلاف سمجھتا ہے۔ اقبال شاہین کو قصر سلطانی کی گنبد پر نہیں بلکہ پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ ان کے خیال میں جب نوجوانوں میں عقابی روح پیدا ہوتی ہے تو انہیں اپنی منزل آسمانوں میں نظر آتی ہے۔۔۔


عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں


بلند پروازی:۔

اقبال کے شاہین کی ایک خوبی اُس کی بلند پروازی ہے اقبال کو شاہین کی بلند پروازی اس لئے پسند ہے کہ یہ اس کے عزائم کو نئے نئے امکانات سے روشناس کرتی ہے۔ اقبال شاہین کے اس وصف کو اپنے مرد مومن میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

خلوت پسندی:۔

اقبال کا شاہین خلوت پسند ہے۔ وہ کبوتر ، چکور یا زاغ کی صحبت سے پرہیز کرتا ہے۔ اقبال کو ایسا شاہین پسند نہیں جو گرگسوں میں پلا بڑھا ہو۔ کیونکہ وہ رسم شاہبازی سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ گرگس اور شاہین ایک فضا میں پرواز کرنے کے باوجود ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔۔۔


وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو گرگسوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و  رسم ِ شاہبازی

پرواز ہے دونوں کا اسی ایک فضا میں
گرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

تیز نگاہی:۔

اقبال کو شاہین کی تیز نگاہی اور دوربینی بھی پسند ہے۔ یہی خصوصیت اس کے خیال میں مردِ مومن میں بھی ہونی چاہیے۔ شاہین کی پرواز اس کی نگاہوں کو وسعت بخشتی ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ دوسرے پرندوں کو بھلا ان مقامات کا کیا پتہ جو فضائے نیلگوں کے پیچ و خم میں چھپے ہوئے ہیں۔ انہیں صرف شہباز کی تیز نگاہ ہی دیکھ سکتی ہے۔

لیکن اے شہباز ، یہ مرغانِ صحرا کے اچھوت
ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر

ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام
روح ہے جس کی دم پرواز سرتاپا نظر

سخت کوشی:۔

اقبال جدوجہد او ر سخت کوشی کے مبلغ ہیں۔ یہ صفت بھی شاہین میں ملتی ہے۔ اقبال مسلم نوجوانوں میں شاہین کی یہ صفات پیدا کرکے انہیں مجسمہ عمل و حرکت بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سبق اقبال نے ایک بوڑھے عقاب کی زبانی اپنے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے دیا کہ سخت کوشی اور محنت کی بدولت زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔۔۔


ہے شباب، اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخ ِ زندگانی انگبیں

سخت کوشی دراصل لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ ہے۔۔۔

جھپٹنا پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گر م رکھنے کا ہے اک بہانہ

چیونٹی اور عقاب کے عنوان سے اقبال نے دو شعر لکھے ہیں ان میں چیونٹی عقاب سے پوچھتی ہے۔۔۔

میں پائمال و خوار و پریشاں و دردمند
تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند

عقاب جواب دیتا ہے۔۔۔

تورزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاک ِ راہ میں
میں نہ سہپر کو نہیں لاتا نگاہ میں

قوت اور توانائی:۔

اقبال کو شاہین اسی لئے پسند ہے کہ وہ طاقتور ہے۔ قوت اور توانائی کے تمام مظاہر اقبال کو بہت مرغو ب ہیں ۔ اقبال کو طائوس ، قمری اور بلبل اسی لئے پسند نہیں کہ یہمحض جمال ِ بے قوت کی علامت ہیں۔ اس طرح تیتر اور کبوتر جیسے پرندے محض اپنی کمزوری کی وجہ سے شکار ہو جاتے ہیں ۔اس بات کو اقبال نے اپنی ایک نظم میں بڑی خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔۔۔

ابو لعلاءمعری کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کبھی گوشت نہیں کھاتا تھا۔ ایک دوست نے ترغیب دینے کے لئے ایک بھُنا ہوا تیتر اسے بھیجا۔ بجائے اس کے کہ معری اس لذیز خوان کو دیکھ کر تیتر کی تعریف کرتا، اس نے اپنا فلسفہ چھانٹنا شروع کر دیا۔ تیتر سے مخاطب کرکے کہا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو گرفتار ہو کر اس حالت کو کیوں پہنچا اور وہ کون سا گناہ ہے جس کی سزا تجھے موت کی شکل میں ملی ہے؟ سن!

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھیں نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

آزادی:۔

اقبال کو حریت اور آزادی کی قدر بہت پسند ہے۔ یہ قدر بھی شاہین کی ذات میں انہیں نظر آتی ہے ۔ اقبال کا شاہین میر و سلطاں کا پالا ہوا باز ہر گز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے لئے آزادی ضروری ہے۔ اقبال جب ہندوستان کے مسلمانوں کی غلامانہ ذہنیت کو دیکھتے ہیں تو بے ساختہ پکار اُٹھتے ہیں۔۔۔

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو گرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و  رسمِ شاہبازی

تجسّس:۔

اقبال کے نزدیک آزادی کے عالم میں ہی شاہین کے لئے تجسس ممکن ہے ورنہ غلامانہ ذہنیت تو اسے بزدل اور کمزور بنا دیتی ہے۔ وہ پر تجسس نگاہ کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی چیتے کے جگر کو۔ ان کے خیال میں یورپی علوم ہمارے لئے اتنے ضروری نہیں جتنا تجسس کا ذوق ضروری ہے۔ کیونکہ اسکے بغیر ہم تخلیقی صلاحیتوں سے محروم رہیں گے۔۔۔

چیتے کا جگر چاہئیے شاہیں کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش افرنگ

یہ تجسس حصول علم کے لئے بھی ضروری ہے اور حصول ِ قوت کے لئے بھی۔ مرد مومن کو شاہین کی طرح دوربین اور پر تجسّس ہونا چاہیے کہ اسی ذریعہ سے حیات کائنات کے اسرار تک رسائی ہوتی ہے۔اقبال ملک کے نوجوانوںکو شاہیں بچے قرار دیتے ہیں جو اگرچہ شاہین کی صفات رکھتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان کو مناسب تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی ۔ وہ اربابِ تعلیم کے خلاف خدا سے شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
سبق  بچوں کو شاہیں دے رہے ہیں خاکبازی کا