Thursday, 2 February 2012

اقبال کا تصور شاہین






اقبالیات


اقبال کا تصور شاہین




خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں
جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں

نگاہ عشق، دل زندہ کی تلاش میں ہے
شکار مردہ   سزاوار   شاہباز   نہیں. ۔


اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے علامتوں کا لباس اختیار کیا ہے ان میں شاہین کا تصور ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ بیسویں صدی کا آغاز تھا کہ اقبال کی پہلی نظم” ہمالہ“ منظر عا م پر آئی ۔ اس کے بعد پانچ چھ بر س تک متواتر ان کی ایسی نظمیں ملک کے سامنے آتی رہیں ، جو ان کی حب وطن، ذوق حسن اور ہم آہنگی فطرت کی آئینہ دار تھیں۔ اس اثنا میں انہیں یورپ کا سفرپیش آیا اور وہ ایک عرصے تک کیمبرج اور اس کے بعد ہائڈل برگ ( جرمنی) میں مقیم رہے۔ جرمنی میں قیام کے دوران میں انہوں نے جن فکری اثرات کو قبول کیا ، ان میں نطشے کا فلسفہ موت و زندگی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ نظریاتی حلقوں سے باہر کی فضاءبھی ایک ہنگامہ عمل سے معمور تھی اور جرمنی قیصر ولیم کی قیادت میں تسخیر عالم کی تیاریوں میں مصرو ف تھا۔ جرمن قوم کی فعالیت اور بلند نظری اور جرمن فرد کی خود شناسی اور خود اعتمادی نے اقبال کے نظام فکر پر ایک گہرا اثرا ڈالا ہے اور اس اثر کی ایک یادگار اُن کی فضائے سخن میں اس پرند کی آواز ہے جسے شاہین کہتے ہیں اور جو قیصر کے جنگی خود اور اس کی کوہ شکن سپاہ کے پھریروں اور اس کے جہازوں کے مستولوں پر دنیا کے گوشے گوشے میں متواتر پانچ بر س تک مائل رہا ۔ اقبال کے شعر میں شہباز کی پہلی نمود ہمیں اس کے دور اوّل کی ایک نظم ” مرغ ہوا“ میں ملتی ہے جو پہلی جنگ عظیم کے قریب لکھی گئی۔۔۔


اک مرغ سِرا نے یہ کہا مرغ ہوا سے
پردار اگر تو ہے تو کیا میں نہیں پردار

گر تو ہے ہوا گیر تو ہوں میں بھی ہوا گیر
آزاداگر تو ہے ، نہیں میں بھی گرفتار

اس میں کوئی کلام نہیں کہ یورپ کی سب سے باعمل قوم کا تصور  شاہین قوت ، تیزی ، وسعت نظر دور بینی اور بلند پروازی کی خصوصیات پر محیط تھا اور اس کے مادی نظریہ حیات کا صحیح ترجمان ۔ لیکن جب اقبال نے اُسے اپنایا تو اس کی مشرقی روحانیت اس کی تخلیق پر غالب آگئی اور اس نے اپنے شاہین کو خصوصیات ِ مذکورہ کے علاوہ درویشی ، قلندری اورخوداری و بے نیازی کی اعلیٰ صفات سے بھی مزین کیا اور اپنی قوم کے نوجوان کے سامنے اسے زندگی کا بہترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ شاہین ِ اقبال کی سیرت کی ایک جھلک ”بال جبریل“ کی مشہور نظم ” شاہین “ میں جو اقبال کے دور خرد پروری کی یادگار ہے ، یوں نظر آتی ہے۔


کیا میں نے اس خاکداں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ

بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ


اقبال اور شاہین:۔


اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین کو ایک خاص علامت کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اور ان کا محبوب پرندہ ہے۔ اقبال کے ہاں اس کی وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے لئے بلبل اور شیلے کے لئے سکائی لارک کی تھی، بلکہ ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سے زیادہ بلند ہے کیونکہ شاہین میں بعض ایسی صفات جمع ہوگئی ہیں، جو اقبال کی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں۔ یوں تو اقبال کے کلام میں جگنو ، پروانہ ، طاوس ، بلبل ، کبوتر ، ہرن وغیر ہ کا ذکرآیا ہے۔ لیکن ان سب پر شاہین کو وہ ترجیح دیتے ہیں۔ اقبال نے تشبیہات و استعارات میں بلبل و قمری کے بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دی ہے۔ڈاکٹر یوسف خان لکھتے ہیں ۔۔۔

اقبال کے وجدان اور جذبات شعری کو جو چیز سب سے زیادہ متحرک کرتی ہے، وہ مظہر ”قوت“ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بلبل اور قمری کی تشبیہوں کی بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دیتا ہے۔

اقبال کے ہاں شاہین مسلمان نوجوان کی علامت کے طور پر استعمال ہو اہے۔اقبال کو جمال سے زیادہ جلال پسند ہے۔ اقبال کو ایسے پرندوں سے کوئی دلچسپی نہیں جن کی اہمیت صرف جمالیاتی ہے یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہیں۔۔۔


کر بلبل و طاوس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز ہے، طاوس فقط رنگ


اقبال کو شاہین کی علامت کیوں پسند ہے اس سلسلے میں خود ہی ظفر احمد صدیقی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔۔۔

شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے۔ اس جانور میں اسلامی فقر کی تمام خوصیات پائی جاتی ہیں۔ خود دار اور غیرت مند ہے کہ اور کے ہاتھ کا مارا ہو شکار نہیں کھاتا ۔ بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا ۔ بلند پرواز ہے۔ خلوت نشین ہے۔ تیز نگاہ ہے۔"

اقبال کے نذدیک یہی صفات مردِ مومن کی بھی ہیں۔ وہ نوجوانوں میں بھی یہی صفات دیکھنا چاہتا ہے ۔ شاہین کے علاوہ کوئی اور پرندہ ایسا نہیں جو نوجوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ بن سکے۔ اُردو کے کسی شاعر نے شاہین کو اس پہلو سے نہیں دیکھا۔ ” بال جبریل“ کی نظم ”شاہین“میں اقبال نے شاہین کو یوں پیش کیا ہے۔۔۔


خیابانیوں سے ، ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ

حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ

جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

یہ پورب ، یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا
میرا نیلگوں آسماں بے کرانہ

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیا نہ؟


اقبال کی شاہین کے صفات:۔
    

اقبال نے شاہین کی جن خوبیوں کا خود ذکر کیا ہے اور جن کے باعث وہ ان کا پسندیدہ جانور بنا ہے ان کا کلام ِ اقبال کی روشنی میں ذرا تفصیلی جائزہ لے لیا جائے تو اقبال کے تصورِ شاہین کو سمجھنے میں مزید مدد مل جاتی ہے۔ وہ صفات مندرجہ ذیل ہیں۔۔۔


غیرت و خود داری:۔


غیرت و خوداری درویش کی سب سے بڑی صفت ہے اور یہی حال شاہین کا بھی ہے۔ اس لئے وہ مرغ سرا کے ساتھ دانہ نہیں چگتا، جو دوسروں کے احسان کے باعث ملتا ہے اور نہ گرگس کی طرح مردہ شکار کھاتا ہے۔ درویش اور فلسفی میں یہی فرق ہے کہ گدھ اونچا تو اُڑ سکتا ہے لیکن شکار ِزندہ یعنی حقیقت اس کے نصیب میں نہیں ہوتی۔


بلند بال تھا لیکن نہ جسور و غیور
حکیم ِ سر ِمحبت سے بے نصیب رہا



پھرا فضائوں میں گرگس اگر چہ شاہیں وار
شکار زندہ کی لذت سے بے نصیب رہا


فقراور استغنا:۔


فقر بھی اقبال کے نزدیک مرد درویش کی بڑی خصوصیت ہے۔ جس طرح شاہین چکور کی غلامی نہیں کر سکتا اُسی طرح درویش شاہوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اقبال کہتے ہیں کہ شاہین کو چکور و گرگس کی صحبت سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ زاغ و گرگس کی صحبت میں شاہین کی زندہ شکار حاصل کرنے کی صلاحیت مردہ ہو جائے گی اور وہ انہی کی طرح لالچی بن کر فقر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اس طرح شاہین کی صفات پیداکرکے فقیر بھی کسی چڑیا ، کبوتر یا فاختہ کا شکار نہیں کرے گا بلکہ وہ فطرت و کائنات کی تسخیرکرے گا یا باطل کی قوتوں کا مقابلہ کرے گا۔۔۔

اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شان ِ بے نیازی

کنجشک و حمام کے لئے موت
ہے اس کا مقام شہبازی


آشیانہ نہ بنانا :۔


اقبال کو شاہین کی یہ ادا بھی پسند ہے کہ وہ آشیانہ نہیں بناتا ۔ آشیانہ بنانا اس کے فقر کی تذلیل ہے۔۔۔


گذر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ بیاباں میں
کہ شاہیں کے لئے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی


شاہین کی طرح درویش بھی سرمایہ جمع کرنے کو درویشی کے خلاف سمجھتا ہے۔ اقبال شاہین کو قصر سلطانی کی گنبد پر نہیں بلکہ پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ ان کے خیال میں جب نوجوانوں میں عقابی روح پیدا ہوتی ہے تو انہیں اپنی منزل آسمانوں میں نظر آتی ہے۔۔۔


عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں


بلند پروازی:۔

اقبال کے شاہین کی ایک خوبی اُس کی بلند پروازی ہے اقبال کو شاہین کی بلند پروازی اس لئے پسند ہے کہ یہ اس کے عزائم کو نئے نئے امکانات سے روشناس کرتی ہے۔ اقبال شاہین کے اس وصف کو اپنے مرد مومن میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

خلوت پسندی:۔

اقبال کا شاہین خلوت پسند ہے۔ وہ کبوتر ، چکور یا زاغ کی صحبت سے پرہیز کرتا ہے۔ اقبال کو ایسا شاہین پسند نہیں جو گرگسوں میں پلا بڑھا ہو۔ کیونکہ وہ رسم شاہبازی سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ گرگس اور شاہین ایک فضا میں پرواز کرنے کے باوجود ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔۔۔


وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو گرگسوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و  رسم ِ شاہبازی

پرواز ہے دونوں کا اسی ایک فضا میں
گرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

تیز نگاہی:۔

اقبال کو شاہین کی تیز نگاہی اور دوربینی بھی پسند ہے۔ یہی خصوصیت اس کے خیال میں مردِ مومن میں بھی ہونی چاہیے۔ شاہین کی پرواز اس کی نگاہوں کو وسعت بخشتی ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ دوسرے پرندوں کو بھلا ان مقامات کا کیا پتہ جو فضائے نیلگوں کے پیچ و خم میں چھپے ہوئے ہیں۔ انہیں صرف شہباز کی تیز نگاہ ہی دیکھ سکتی ہے۔

لیکن اے شہباز ، یہ مرغانِ صحرا کے اچھوت
ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر

ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام
روح ہے جس کی دم پرواز سرتاپا نظر

سخت کوشی:۔

اقبال جدوجہد او ر سخت کوشی کے مبلغ ہیں۔ یہ صفت بھی شاہین میں ملتی ہے۔ اقبال مسلم نوجوانوں میں شاہین کی یہ صفات پیدا کرکے انہیں مجسمہ عمل و حرکت بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سبق اقبال نے ایک بوڑھے عقاب کی زبانی اپنے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے دیا کہ سخت کوشی اور محنت کی بدولت زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔۔۔


ہے شباب، اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخ ِ زندگانی انگبیں

سخت کوشی دراصل لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ ہے۔۔۔

جھپٹنا پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گر م رکھنے کا ہے اک بہانہ

چیونٹی اور عقاب کے عنوان سے اقبال نے دو شعر لکھے ہیں ان میں چیونٹی عقاب سے پوچھتی ہے۔۔۔

میں پائمال و خوار و پریشاں و دردمند
تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند

عقاب جواب دیتا ہے۔۔۔

تورزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاک ِ راہ میں
میں نہ سہپر کو نہیں لاتا نگاہ میں

قوت اور توانائی:۔

اقبال کو شاہین اسی لئے پسند ہے کہ وہ طاقتور ہے۔ قوت اور توانائی کے تمام مظاہر اقبال کو بہت مرغو ب ہیں ۔ اقبال کو طائوس ، قمری اور بلبل اسی لئے پسند نہیں کہ یہمحض جمال ِ بے قوت کی علامت ہیں۔ اس طرح تیتر اور کبوتر جیسے پرندے محض اپنی کمزوری کی وجہ سے شکار ہو جاتے ہیں ۔اس بات کو اقبال نے اپنی ایک نظم میں بڑی خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔۔۔

ابو لعلاءمعری کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کبھی گوشت نہیں کھاتا تھا۔ ایک دوست نے ترغیب دینے کے لئے ایک بھُنا ہوا تیتر اسے بھیجا۔ بجائے اس کے کہ معری اس لذیز خوان کو دیکھ کر تیتر کی تعریف کرتا، اس نے اپنا فلسفہ چھانٹنا شروع کر دیا۔ تیتر سے مخاطب کرکے کہا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو گرفتار ہو کر اس حالت کو کیوں پہنچا اور وہ کون سا گناہ ہے جس کی سزا تجھے موت کی شکل میں ملی ہے؟ سن!

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھیں نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

آزادی:۔

اقبال کو حریت اور آزادی کی قدر بہت پسند ہے۔ یہ قدر بھی شاہین کی ذات میں انہیں نظر آتی ہے ۔ اقبال کا شاہین میر و سلطاں کا پالا ہوا باز ہر گز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے لئے آزادی ضروری ہے۔ اقبال جب ہندوستان کے مسلمانوں کی غلامانہ ذہنیت کو دیکھتے ہیں تو بے ساختہ پکار اُٹھتے ہیں۔۔۔

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو گرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و  رسمِ شاہبازی

تجسّس:۔

اقبال کے نزدیک آزادی کے عالم میں ہی شاہین کے لئے تجسس ممکن ہے ورنہ غلامانہ ذہنیت تو اسے بزدل اور کمزور بنا دیتی ہے۔ وہ پر تجسس نگاہ کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی چیتے کے جگر کو۔ ان کے خیال میں یورپی علوم ہمارے لئے اتنے ضروری نہیں جتنا تجسس کا ذوق ضروری ہے۔ کیونکہ اسکے بغیر ہم تخلیقی صلاحیتوں سے محروم رہیں گے۔۔۔

چیتے کا جگر چاہئیے شاہیں کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش افرنگ

یہ تجسس حصول علم کے لئے بھی ضروری ہے اور حصول ِ قوت کے لئے بھی۔ مرد مومن کو شاہین کی طرح دوربین اور پر تجسّس ہونا چاہیے کہ اسی ذریعہ سے حیات کائنات کے اسرار تک رسائی ہوتی ہے۔اقبال ملک کے نوجوانوںکو شاہیں بچے قرار دیتے ہیں جو اگرچہ شاہین کی صفات رکھتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان کو مناسب تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی ۔ وہ اربابِ تعلیم کے خلاف خدا سے شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
سبق  بچوں کو شاہیں دے رہے ہیں خاکبازی کا









Thursday, 26 January 2012

میراجی : بدنام لیکن اہم شاعر




بدنام لیکن اہم شاعر


”میراجی


بقول سر سہیل۔۔
میرا جی کو سمجھنے کے لئے انسان کو میراجی بننا پڑتا ہے۔

ترقی پسند تحریک کے زور و شور کے زمانے میں 1939ءمیں حلقہ ارباب ذوق کا قیام عمل میں آیا۔ مجموعی طور پر حلقہ ترقی پسند تحریک کا ردعمل تو نہ تھا۔ لیکن دونوں کے ادبی رویے مختلف ضرور تھے۔ حلقہ کے لوگ عصری شعور رکھتے تھے لیکن وہ ادب میں یک رنگی کے قائل نہ تھے ۔وہ انسان کو اس کی کلیت کے حوالے سے دیکھنا اور سمجھنا چاہتے تھے۔ اسی طرح ادب کے مطالعے سے بھی وہ کسی مخصوص نقطہ نظر تک محدود نہ تھے۔ حلقہ اربابِ ذوق کے شاعروں کی اصل شناخت ان کی نظم نگاری ہے۔ ان حضرات نے قدیم روایت سے انحراف کرتے ہوئے نظم کے مروجہ تصور میں بھی تبدیلی پیدا کی جو ان کے نظریہ شعر سے پوری طرح ہم آہنگ تھی۔ ۱۹۳۶ءکے آس پاس شعر ی موضوعات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نظم کی ہیت میں بھی تبدیلی واقع ہوئی۔ اس دوران آزاد نظم کی ہیئت کو مقبولیت ملی۔ حلقہ کے شاعروں نے اس ہیئت کو کچھ اس طرح برتا کہ اسے تحریک کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ ن۔م راشداور تصدق حسین خالد کو آزاد نظم کا بانی کہا جاتا ہے۔ لیکن آزاد نظم میں ایک بہت ہی مقبول نام ”میراجی “ کابھی ہے۔
میراجی ، جن کا اصل نام محمد ثنا اللہ تھا ۔ منشی محمد مہتاب الدین کے ہاں ٥٢ مئی ۱۹۱۲ءکو لاہور میں پیداہوئے۔  پہلے ”ساحری“ تخلص کرتے تھے۔ لیکن ایک بنگالی لڑکی ”میراسین“ کےیک طرفہ عشق میں گرفتار ہو کر ”میراجی“ تخلص اختیار کر لیا۔ میراجی کی ذات سے ایسے واقعات وابستہ ہیں کہ ان کی ذات عام آدمی کے لئے ایک افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔  اُن کا حلیہ اور ان کی حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا انہوں نے سلسلہ ملامتیہ میں بیعت کر لی ہے۔ لمبے لمبے بال ،بڑی بڑی مونچھیں ، گلے میں مالا ، شیروانی پھٹی ہوئی، اوپر نیچے بیک وقت تین پتلونیں، اوپر کی جب میلی ہوگئی تو نیچے کی اوپر اور اوپر کی نیچے بدل جاتی۔ شیروانی کی دونوں جیبوں میں بہت کچھ ہوتا۔ کاغذوں اور بیاضوں کا پلندہ بغل میں دابے بڑی سڑک پر پھرتا تھااور چلتے ہوئے ہمیشہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا تھا۔  وہ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنی سوسائٹی کے ماحول کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا تھا ۔ اس نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ اپنے لئے شعر کہے گا۔ صرف ۳۷ سال کی عمر میں ٣ نومبر 1949ءکو مرگئے۔ اس مختصر سی عمر میں میراجی کی تصانیف میں ”مشرق و مغرب کے نغمے“ ”اس نظم میں “”نگار خانہ“”خیمے کے آس پاس“ شامل ہیں۔ جبکہ میراجی کی نظمیں ، گیت ہی گیت، پابند نظمیں اور تین رنگ بھی شاعر ی کے مجموعے ہیں۔  آئیے میراجی کی شاعری کی فکری اور فنی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں۔

مغربی شعراءکا اثر :

میراجی فرانس کے ایک آوارہ شاعر ”چارلس بودلئیر“ سے بہت متاثر تھے۔ بودلیئر دوستوں کو دشمن بنانے میں یدطولیٰ رکھتا تھا ۔ میراجی بھی ان سے کم نہ تھے۔ ”مشرق و مغرب کے نغمے“ میں میراجی نے بودلئیر کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے کئی نظمیں اپنی ذات کے لئے لکھی ہیں۔ میراجی کی ابتدائی دور کی شاعری اپنی ذات کے لئے ہے۔ بودلیئر کے بارے میں میراجی نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ لاشعور کا شاعر تھا وہ نئے احساسات ، نئے لہجے ، نئے انداز بیاں اور نئی زبان کا شاعر تھا۔ یہی کام میراجی نے بھی کیا۔
اس کے علاوہ وہ امریکہ کے تخیل پرست شاعر ”ایڈ گر ایلن پو “ سے بہت زیادہ متاثر ہیں ۔ اُس کی بیوی اُس کے لئے ایک ایسا سایہ بن جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور میراجی کے ہاں بھی ”سایہ “ کی علامت بار بار آتی ہے۔”پو“عورت کے بجائے عورت کے تصور کی پوجا کرتا تھا۔ میراجی کی شاعر ی کے بارے میں نقادوں نے لکھا ہے کہ میراجی کو تصور سے پیار ہے۔ تصور میراجی کا آدرش ہے۔ منظر بھی منظر بن کر نہیں تصور بن کر ان کی شاعر ی میں آتا ہے۔

ویشنو مت یا ہندو مت کا اثر :

میراجی کی نظموں میں وشنو مت کے بہت زیادہ اثرات ہیں۔ ویشنو بھگتی تحریک دراصل قدیم ہندوستان کے تہذیبی ابال کی ایک صورت تھی۔ جو براہمنوں کی اجارہ داری کے مقابلے میں ذات پات کو ختم کرنے کے رجحان ،آریائوں کے خاص مذہبی روایات کے مقابلے میں زمین کی زرخیزی سے متعلق دیوتائوں اور اوتاروں کی تخلیق اور سنسکرت کے مقابلے میں دیس کی اپنی بولیوں کے احیاءمیں ڈھل کر نمودار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے ہندوستا ن نے اسے قبول کرلیا۔
یہ تحریک دکن سے شروع ہوئی او ر شمالی ہند میں اس نے خوب ترقی کی۔ راما نند ، کبیر اور تلسی داس نے بھگتی کی اس تحریک کو پروان چڑھایا۔ اس تحریک سے پہلے رام اور سیتا کی پوجا ہوتی تھی۔ لیکن ان لوگوں نے کرشن اور رادھا کی پوجا شروع کی اور اپنی شاعری میں اُسے جگہ دی۔ 
میراجی کی نظموں کے مطالعہ کے سلسلے میں ویشنو بھگتی تحریک کے دو پہلو زیادہ اہم ہیں۔ ان میں ایک تو کرشن اور رادھا کی محبت سے متعلق ہے۔ کرشن ایک چرواہا تھے اور رادھا ایک خوبصورت دوشیزہ تھی۔ ان کی محبت ملن اور سنجوک سے کہیں زیادہ فراق اور دوری اور مفارقت کی محبت تھی۔ پھر جہاں ملن کے سمے آتے تھے وہاں کہانی کا وہ پہلو زیادہ نمایاں ہوتا تھا جسے”مدھر“ کا نام دیا گیا ہے اور جو دراصل مرد اور عورت کی محبت کے والہانہ پن اور شدت کو اجاگر کرتا ہے۔ دوسرا پہلو ”کالی“ اور ”شو“ سے متعلق ہے اور اس نے جنسی علامتوں کے بارے میں میرا جی کا خوب ساتھ دیا ہے۔ویشنو مت بھگتی تحریک کے تصورات میں جنسی پہلو بڑی شدت کے ساتھ اجاگر ہوا ہے۔ اور میراجی کی نظموں میں جنسی پہلو کو نمایاں کرنے کی دھن دراصل ویشنو بھگتی تحریک کے ان اثرات کا نتیجہ ہے۔

جنسی حوالہ :

میراجی کی شاعر ی میں جنسی پہلو وشنو بھگتی تحریک کے ان اثرات کا نتیجہ ہے جو دراصل مرد اور عورت کی محبت کے والہانہ پن اور شدت کو اجاگر کرتا ہے۔ لہذا ان رجحانات کو میراجی کی شاعری میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ”حرامی “ ،”دوسری عورت“، ”دور کنارا“ ، ”ایک نظم“ ، ”عدم کا خلا“ اور ”دور نزدیک“ کے علاوہ کئی نظموں میں جنسی آزادہ روی ، جنسی تعلقات کا موضوع ملتا ہے۔عورت اُن کی مکمل کمزوری نہیں۔ وہ اپنی نظم ”خود نفسی“ میں محرومی سے بچنے کا ایک اور راستہ ”خود لذتی“ کی صورت میں تلاش کر لیتے ہیں۔

جوانی میں ساتھ ہے جو اضطراب
نہیں کوئی اس کا علاج
مگر ایک عورت
کھلے جب نہ مجھ پر وسیلوں کے باب
ملے جب نہ چاہت کا تاج
تو پھر کیا کروں میں

عورت اور مر د کی محبت میں جنسی پہلو کو نمو، ناجائز جنسی تعلقات اور اس کے سراہنے کی روش میراجی کی نظموں میں عام ہے۔ مثلاً میراجی کی نظم”حرامی“ میں شاعر نے ناجائز جنسی تعلقات کے ثمر کو زندگی کا حاصل قرار دیاہے۔ میراجی نے ناجائز محبت کے ضمن میں عام سماجی ردعمل کو قطعاً نظر انداز کر دیا ہے۔

قدرت کے پرانے بھیدوں میں جو بھید چھپائے چھپ نہ سکے
اس بھید کی تو رکھوالی ہے
اپنے جیون کے سہارے کو اس جگ میں اپنا کر نہ سکی
یہ ہے کوئی دن آئے گا وہ نقش بنانے والی ہے

میں تھکا ماندہ مسافر ہوں چلا جائوں گا
اک گھڑی راہ میں تم مجھ کو بسر کرنے دو۔

تصّور :

بقول ڈاکٹر جمیل جالبی۔۔
میراجی کی شاعری میں چیزیں نہیں بلکہ چیزوں کا تصور ملتا ہے ۔ انہیں عورت سے زیادہ عورت کا تصور عزیز ہے۔ منظر بھی منظر بن کر نہیں بلکہ تصور بن کر ان کی شاعر ی میں آتا ہے۔
میراجی کی بدنام زمانہ نظم ”لب جوئبارے“ میں اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔۔

ایک ہی پل کے لئے بیٹھ کے پھر اُٹھ بیٹھی
آنکھ نے صرف یہ دیکھا کہ نشستہ بت ہے
پھر بصارت کو نہ تھی تاب کہ وہ دیکھ سکے 
کیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہ
ایک لمحے کے لئے چشمے کی مانند بنا

میراجی کو اشیا ءسے زیادہ ان کے تصور عزیز تھے ۔ خود میراسین بھی ایک تصور ہی ہے۔ بہت سے نقاد میراسین کو میراجی کی نظموں کا لاشعوری موڑ قرار دیتے ہیں۔ لیکن میراسین کا وجود میراجی کے ہاں ایک شعوری وجود سے زیادہ کچھ نہیں ۔ تصور سے بھرپور نظمیں ہمیں میراجی کے ہاں ملتی ہیں۔ جن میں ”دکھ دل کا دارو“ ”سنجوک“، ”ایک عورت“ ”اجنبی انجان عورت“، ”لب جوئبارے“ ، ”افتاد“ ، ”محبت“ ، ”دھوکہ“، شامل ہیں۔

سفید بازو گداز اتنے
زباں تصور میں حظ اُٹھائے
اور انگلیاں بڑھ کے چھونا چاہیں 
مگر انہیں برق ایسی لہریں
سمٹتی مٹھی کی شکل دے دیں

ماضی پرستی :


میراجی ماضی پرست انسان ہیں۔ وہ ٹھوس حقائق سے آنکھیں بند کرکے دیومالائی عہد میں زندہ رہنا چاہتا ہے۔ مگر یہ رائے مکمل طور پر درست بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اندھیرے اور اجالے کے تضاد اور تصادم اور احساس ، عام ذہن کے لئے قابل ِ قبول سچائی ہیں، میراجی اس سے گریز نہیں کرتے ۔ میراجی کے ہاں یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس لئے کہ  میراجی ماضی پرست ہونے کے ساتھ ساتھ جدید خیالات ، اور احساسات کابھی خیرمقدم کرتا ہے۔
جہاں میں اور بھی تھے مجھ سے تم سے بڑھ کے کہیں           
جو اجنبی تھے جنہیں اجنبی ہی رہنا تھا

دوری :

میراجی ہر چیز کو دور کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی محبوبہ میرا سین کو بھی اتنی دور سے دیکھا کہ اس کا کوئی واضح نقش اس کی نظم میں نہیں ابھر سکا۔ اُس نے میراسین کو ماضی کی دھندلکوں میں ڈھکیل دیا ۔ اور پھر وہ کہیں رادھا بنی ، کہیں بادل ، کہیں دریا، کہیں ندی۔
میراجی کو دوری ہی میں حسن نظر آتا ہے۔ اس دور ی نے ہجر کے کرب ناک لمحوں کو بھی جنم دیا جو کہ ناقابل برداشت تھے۔ لیکن ایسا خال خال ہی ہوا ہے۔ بیشتر جگہوں پر دوری کے احسا س کو لے کر میراجی نے خوبصورت شعری پیکر تراشے ہیں ۔ جن کی کوئی مثال اردو شاعری میں نہیں نظر آتی۔

ترا دل دھڑکتا رہے گا          
مرا دل دھڑکتا رہے گا         
مگر دور دور          
زمیں پر سہانے سمے آتے جاتے رہیں گے           
یونہی دور دورستارے چمکتے رہیں گے
یونہی دور دور
لیکن محبت
یہ کہہ رہی ہے
ہم دور ہی دور
اور دور ہی دور چلتے رہیں گے

خارجیت :

میراجی کو لوگ داخلیت زدہ شاعر مانتے ہیں۔ لیکن اُن کی پوری شاعری سمندر ، پہاڑ ، نیلا گہرآ سمان، بل کھاتی ندیاں ، تالابوں ، جنگلوں ، چاند سورج اور ستاروں ، کاجل کی لکیر ، پھولوں کی سیج، سرسراتے ملبوس اور بدن کے لہو کی آگ کی شاعری ہے۔ میراجی کی نظموں کا منظر نامہ اتنا پھیلا ہوا اور متنوع ہے کہ اس پرداخلیت پسندی کا گزر ہی نہیں ہو سکتا ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اس خارجی منظر نامے اور وسیع کینوس کو اپنی ذات کے حوالے سے دیکھا اور بیان کیا ہے۔ میراجی پر داخلیت پسندی اور بیمار ذہنیت کے الزامات وہ لوگ لگاتے ہیں جو میراجی کی نظموں کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے۔ ورنہ میراجی کے ہاں داخل اور خارج کو جو توازن ملتا ہے وہ اردو شاعروں میں بہت کم ہے۔

یوں سامنے کچھ دور
چپ چاپ کھڑا ہے
آکاش کا پربت
اور چوٹی پہ اُس کی
ہے سوریہ کا مندر

اذیت پسندی :

میراجی چونکہ بھگتی تحریک سے متاثر تھے لہٰذا بھگتی تحریک کا ایک اہم پہلو اذیت کوشی بھی ہے۔ لہٰذا میراجی کی نظموں میں اذیت پسندی کا رجحان بڑا واضح ہے۔ اس اذیت پسندی میں ایک پہلو محبت میں دوری اور مفارقت ہے۔ خود رادھا اور کرشن کی محبت میں لمحہ بھر کے ملاپ کے بعد ایک طویل مفارقت کا وقفہ آتا ہے جو آنے والے ملن کے لمحات کی شدت کو دو چند کر دیتا ہے ۔ میراجی کی نظموں میں دوری اور مفارقت کی اس کیفیت کی بہت عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔

ایک تو ایک میں دور ہی دور ہیں
آج تک دور ہی دور ہر بات ہوتی رہی
دور ہی دور جیون گزر جائے گا
اور کچھ بھی نہیں

ابہام :

جنسیت کے ساتھ ہی ابہام کا مسئلہ جڑاہوا ہے۔ جسے میراجی نے اپنے باغیانہ تصورات کے اظہار کے لئے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔ میراجی نے خود ایک جگہ لکھا ہے کہ
میری نظموں کا نمایاں پہلو ان کی جنسی حیثیت ہے۔
جنس کے بارے میں یہ بات واضح رہے کہ جنس ابہام کے پردوں میں چھپ کر ہی جمالیاتی سطح کو چھو سکتی ہے ۔ میراجی نے جب شاعری کا آغاز کیا تو اس وقت جنس کی بات کرنا مروجہ اخلاقیات کی سطح پر ایک ناپسندیدہ فعل تھا۔ اردو شاعری میں محبوب اس لئے مذکر تھا کہ پردہ نشین محبوب کے پردہ کا پورا خیال رکھا جائے۔ میراجی کے ہاں ابہام کی وجہ مغرب کے شعراءبودلیئر اور ملارمے کی تقلید بھی ہے۔ضمیر علی ایک جگہ لکھتے ہیں۔
ملارمے کا اثر میراجی کی ادبی شخصیت کا اہم موڑ تھا ۔ ملارمے نے اسے ابہام کی فنی اہمیت سے روشنا س کیا۔
یا د ہے اب بھی مجھ کان ہوئے تھے بیدار
خشک پتوں سے جب آئی تڑپنے کی صدا
اور دامن کی ہر اک لہر چمک اُٹھی تھی   
پڑ رہا تھا اُسی تلوار کا سایہ شائد
جو نکل آئی اک پل میں نہاں خانے سے

علامت نگاری :

جنسی مسائل اگر جوں کے توں بیان کر دیئے جائیں تو یہ اپنی اعلیٰ جمالیاتی قدروں کے ساتھ شعر میں نہیں کھپ سکتے ۔ چونکہ میراجی بیشتر اسی جنسی داشتہ کے گرد گھومتے رہے ہیں ۔ اس لئے علامت کا سہارا اشد ضروری تھا۔ انہیں علامتوں کی زبان آتی تھی بلکہ وہ علامتوں کے ہی شاعر تھے۔
چاند میراجی کی نظموں میں محبت کی علامت ہے۔ رات کی علامت میراجی کے ہاں جنسی جذبہ کی علامت ہے۔ اس کے مقابلے میں دن کی علامت غیر جنسی زندگی کی علامت ہے ۔ یعنی رات کے سائے کے مقابلہ پر دن کا سایہ پیدا ہوتا ہے۔ اسے جنس سے حقیقی تسکین حاصل نہیں ہوتی۔

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں
رات اک بات ہے صدیوں کی، کئی صدیوں کی
یا کسی پچھلے جنم کی ہوگی

سمندرکی علامت بھی میراجی کو بہت محبوب ہے۔ اپنی ایک نظم دھوکا میں انہوں نے اسے استعمال کیاہے۔ سمندر غیر شخصی جذبہ ہے۔ جبکہ کنواں وہ جنسی جذبہ ہے جو شخصی ہو کر رہ جائے ۔ نظم کا موضوع ایک ایسی عورت ہے جو خود کو کنواں سمجھتی ہے مگر صحیح جنسی تجربے کے بعد وہ سمندر بن جاتی ہے۔

اتھاہ کائنات کے خیال کو غلط سمجھ رہے ہیں ہم ستاروں کی مثال

اتھا ہ کائنات اک کنواں نہیں یہ بحرہے

میراجی کے ہاں ایک اور علامت جنگل کی ہے۔ جنگل وحدت کی بجائے کثرت کی علامت ہے ۔ اس کے علاوہ میراجی کے ہاں ساڑھی اور روزن بھی جنسی علامتیں ہیں۔ لیکن میراجی کے ہاں سورج ایک رقیب ہے۔ ”آمد صبح “ میں وہ لکھتا ہے۔

وہ لو سورج بھی اپنی سیج پر اب جاگ اُٹھا ہے
گئی رات اور دن آیا

کردار نگاری :

میراجی اپنی نظموں میں بعض اوقات کرداروں کو تخلیق کرتے ہیں جو کہ ایک ڈرامے یا افسانے کی طرح یہ کردار آگے بڑھتے ہیں اور اس نظم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کرداروں کا اثر نظم پر اول سے آخر تک ہوتا ہے۔ نظموں کے اندر بالکل کہانی کا سا انداز آجاتا ہے۔ ”کلرک کا نغمہ“ اس حوالے سے اس کا نمائندہ نظم ہے ۔

دنیا کے انوکھے رنگ ہیں
جو میرے سامنے رہتا ہے اس گھر میں گھر والی ہے

اور دائیں پہلو میں ایک منزل کا ہے مکاں ، وہ خالی ہے
اور بائیں جانب اک عیاش ہے جس کے ہاں ایک داشتہ ہے
اور ان سب میں اک میں بھی ہوں لیکن بس تو ہی نہیں

اسلوب :

ابہام میراجی کی شاعری کی نمایاں خصوصیت ہے اور ان کی انفرادیت کی سب سے بڑی پہچان ہے جو کہ ان کی بے باک عریاں نگاری کے لئے ایک لطیف پردے کا کام کرتاہے۔ اُن کا اصل رنگ انہیں نظموں میں نظر آتی ہے جن میں بیان کی لطیف پیچیدگی ہے۔ لیکن میراجی نے ایسی نظمیں بھی کہی ہیں جن کا اندازِبیان واضح اور غیر مبہم ہے۔مثال کے طور پر کلرک کا نغمہ۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظم کا موضوع غیر جنسی ہے۔۔

سب رات میری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوں
پھر صبح کی دیوی آتی ہے
اپنے بستر سے اُٹھتا ہوں منہ دھوتا ہوں
لایا تھا کل جو ڈبل روٹی
اس میں سے آدھی کھائی تھی
باقی جو بچی وہ میرا آ ج کا ناشتہ ہے۔

میراجی کی اکثر نظمیں تصاویر یا مناظر کی حامل ہوتی ہیں۔ ان مناظر کی پیشکش میں میراجی ڈرامے کی تکنیک کا پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ جبکہ خود کلامی یا تخاطب یا کسی واقعے کے بیان کے ذریعے ایک تاثر کو ابھارتے ہیں اور یکا یک منظر بدل کر نظم کو ایک نیا موڑ دے دیتے ہیں۔ جو زیادہ تر فلش بیک کی شکل میں ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر میراجی کی امیجری ،جو ان کے اسلوب کی ایک نمایاں خصوصیت ہے ، اتنی دلکش ہوتی ہے کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

یہ بستی یہ جنگل یہ بہتے ہوئے راستے اور دریا یہ پربت
اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت
یہ اجڑے ہوئے مقبر ے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور
یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے
یہ گاڑی سے ٹکراکے مرتا ہوا کوئی اندھا مسافر

میراجی کے ہاں فارسی اور ہندی زدہ اسلوب پایا جاتا ہے۔ اُ ن کے تین اہم اسلوب ہیں جن میں ہندی ، فارسی اور اردو اسلوب شامل ہیں۔ لیکن اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو کلیات میراجی کی ابتدائی نظموں پر ہندی اسلوب غالب ہے۔۔

دل بے چین ہوا رادھا کا کون اسے بہلائے گا؟     
جمنا تٹ کی بات تھی ہونی ، اب تو دیکھا جائے گا
چپکی سہے گی رنگ و رادھا جو بھی سر پر آئے گا       
اودھو شیام پہیلی رہتی دنیا کو سمجھائے گا

میراجی کا ایک اور اسلوب فارسی کاہے۔ جہاں میراجی فلسفیانہ انداز اپناتے ہیں وہاں وہ فارسی سے بہت زیادہ مدد لیتے ہیں۔

میں تجھے جان گیا روح ِ ابد
تو تصور کی تمازت کے سوا کچھ بھی نہیں
چشم ظاہر کے لئے خوف کا سنگیں مرقد
اور مرے دل کی حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
اور مرے دل میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

میراجی کی نظموں پر ”اردو سٹائل“ کے بھی بہت سے اثرات پائے جاتے ہیں ”آبگینے کے اس پار ایک شام“ ”دور کنارا“ ”مجھے گھر یاد آتاہے“ یگانگت۔ وغیرہ اسی سٹائل کی نمائندہ نمائندہ نظمیں ہیں۔

زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے
فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے
یہ میں کہہ رہا ہوں

مجموعی جائزہ :

جہاں تک اردو نظم کا تعلق ہے۔ میراجی کی حیثیت منفر اور یکتا ہے۔ اردو نظم گو شعراءمیں شائد ہی کسی نے اپنے موضوع سے اس قسم کی جذباتی وابستگی ، شغف اور زمین سے ایسے گہرے لگائو کا ثبوت بہم پہنچایا جیسا کی میراجی کے ہاں نظر آتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں میراجی کی شاعری نے اس کی اپنی جنم بھومی سے خون حاصل کیا۔ اور اسی لئے اس میں زمین کی خوشبو ، حرارت اور رنگ نمایاں ہے۔ میراجی کی عظمت بڑی حد تک اس کے اسی رحجان کے باعث ہے۔ پھر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ میراجی کے بعد آنے والے بہت سے نظم گو شعراءنے میراجی سے بڑے واضح اثرات قبول کئے ہیں اور اس کی علامتوں ، اشاروں، سوچنے کے خاص انداز اور بیان کے مخصوص پیرائے کو پیش نظر رکھا ہے۔ چنانچہ اردو نظم کا وہ طالب علم جس نے میراجی کی نظموں کا مطالعہ کیا ہے، بڑی آسانی سے جدید نظم گو شعراءکے ہاں میراجی کے اثرات کی نشان دہی کر سکتا ہے۔ دراصل میراجی نے خاص رجحان کے تحت اردو نظم کو ایک نئے مزاج اور ایک نئے ذائقے سے آشنا کیا ۔ اور نظم کے دھارے کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔


یہ مضمون urduweb.org سے ماخوذ ہے